37963- عن جابر أن حاطب بن أبي بلتعة كتب إلى أهل مكة يذكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم آت لغزوهم، فدل رسول الله صلى الله عليه وسلم على المرأة التي معها الكتاب فأرسل إليها، فأخذ كتابها من رأسها فقال: "يا حاطب! فعلت؟ " قال: نعم، أما إني لم أفعله غشا لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نفاقا، قد علمت أن الله مظهر رسوله ومتم له أمره غير أني كنت غريبا بين أظهرهم وكانت ولدى معهم فأردت أن أتخذها عندهم، فقال عمر: ألا أضرب رأس هذا؟ فقال: "تقتل رجلا من أهل بدر؟ ما يدريك لعل الله اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم". "ك"
٣٧٩٦٣۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو خط لکھا اور اس میں ذکر کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے جنگ کے لیے آنے والے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (بذریعہ وحی) اس عورت کے متعلق آگاہ کیا گیا جو مذکورہ خط لے کر جارہی تھی۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کی طرف (دوصحابیوں کو) بھیجا۔ اور انھوں نے اس کے سر کے بالوں میں سے وہ خط برآمد کرلیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حاطب (رض) کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
اے حاطب ! کیا تم نے یہ کام کیا ہے ؟ حضرت حاطب (رض) نے عرض کیا : جی ہاں۔ مگر یارسول اللہ ! میں نے ایسا کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دینے کے لیے کیا اور نہ مجھ میں منافقت ہے۔ بیشک مجھے خوب یقین ہے کہ اللہ عزوجل اپنے رسول کو غالب کرکے رہیں گے اور ان کے (دین و) حکومت کو مکمل فرماکررہیں گے۔ مگر بات یہ ہے کہ ان کافرین مکہ کے درمیان میں ایک کم حیثیت آدمی ہوں اور میرے اہل خانہ ان کے درمیان رہتے ہیں، اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ ان کے ساتھ کچھ تعلق بنالوں۔ حضرت عمر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تو بدر کے شریک آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے ؟
تجھے کیا معلوم شاید اللہ پاک نے اہل بدر سے ہم کلام ہوا ہو اور فرمایا ہو کہ تم جو چاہے کرو۔ (مستدرک الحاکم)