37977- "مسند عمر" عن الحسن البصري قال: كان عمر قد حجر على أعلام قريش من المهاجرين الخروج إلى البلدان إلا بأذن وأجل، فشكوه فبلغه، فقام فقال: ألا إني قد سننت الإسلام سن البعير، يبدأ فيكون جذعا ثم ثنائيا ثم رباعيا ثم سداسيا ثم بازلا، فهل ينتظر بالبازل إلا النقصان! ألا! وإن الإسلام قد بزل1 ألا! وإن قريشا يريدون أن يتخذوا مال الله مغرمات دون عباده، ألا فأما وابن الخطاب حي فلا، إني قائم دون شعب الحرة آخذ بحلاقيم قريش وحجزها أن يتهافتوا في النار."سيف، كر".
٣٧٩٧٧۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے مہاجرین قریش کے لوگوں پر دوسروں شہروں میں جانے پر پابندی عائد کردی تھی الایہ کہ کوئی مقررہ مدت تک کے لیے اجازت لے کرجائے۔ چنانچہ قریش نے اس کی شکایت کی۔ یہ بات حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو حضرت عمر (رض) (لوگوں کے سامنے) کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا :
(خبردار ! سنو اسلام ایک اونٹ کی مانند ہے جو پہلے بچہ تھا، پھر وہ ثنائی (دو دانتوں والا) ہوا پھر رباعی (چاردانتوں والا) ہوا پھر سداسی (چھ دانتوں والا) ہوا پھر بازل (نویں سال میں داخل) ہوگیا اور اونٹ کی یہ عمر (جوانی والی) نقصان ہی لاتی ہے۔
اب اسلام جوان ہوچکا ہے اور سنو قریش چاہتے ہیں کہ اللہ کے مال کو دوسرے بندوں کے مقابلے ہتھیار لیں۔ خبردار ابن الخطاب کے زندہ ہوتے ہوئے ایسا ہونا ناممکن ہے۔ میں حرۃ گھاٹی (مدینے سے نکلنے کے راستے) پر کھڑا ہوں اور قریش کو ان کی گردنوں اور کمروں سے پکڑرہاہوں۔
جہنم میں اوپر نیچے گرنے سے بچانے کے لئے۔ ( سیف ، ابن عساکر)