37978- عن الشعبي قال: لم يمت عمر حتى ملته قريش وقد حصرهم بالمدينة وأسبغ عليهم وقال: إن أخوف ما أخاف على هذه الأمة انتشاركم في البلاد، فإن كان الرجل يستأذنه في الغزو وهو ممن حصر في المدينة من المهاجرين ولم يكن فعل ذلك بغيرهم من أهل مكة فيقول: قد كان لك في غزوك مع النبي صلى الله عليه وسلم ما يبلغك، وخير لك من الغزو اليوم أن لا ترى الدنيا وتراك، فلما ولى عثمان خلى عنهم فاضطربوا في البلاد وانقطع إليهم الناس. قال محمد وطلحة: فكان ذلك أول وهن دخل على الإسلام، وأول فتنة كانت في العامة ليس إلا ذلك."سيف، كر".
٣٧٩٧٨۔۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) اس وقت تک نہیں مرے جب تک کہ قریش نے ان کو تھکا نہ دیا۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو مدینے میں روک دیا تھا اور تمام (قریش) کو وہیں رہنے کی تاکید کردی تھی (١) آپ (رض) ان کو فرماتے تھے : مجھے اس امت پر سب سے بڑا خطرہ تمہارے دوسرے علاقوں میں منتشر ہوجانے کا ہے
چنانچہ اگر ان محصورین مدینے میں سے کوئی آپ سے کسی جہاد میں شرکت کی اجازت چاہتا تو اس کو ارشاد فرماتے : تجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں شرکت کا موقع ملا ہے جو تیرے (درجے بلند کرنے کے ) لیے کافی ہے۔ اور آج کے زمانے میں غزوہ میں شرکت کرنے سے تیرے لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ تو دنیا کو نہ دیکھے اور نہ دنیا تجھے دیکھے۔
چنانچہ جب حضرت عثمان (رض) خلیفہ بنے تو انھوں نے ان کا راستہ خالی کردیا اور وہ دنیا میں پھیل گئے اور لوگ بھی (اوروں سے) کٹ کٹ کر ان سے ملنے لگے۔ محمد اور طلحہ کہتے ہیں : یہ پہلی کمزوری تھی جو اسلام میں داخل ہوئی اور اس سال کا پہلا فتنہ یہی تھا۔ (سیف، ابن عساکر)