37996- عن أنس: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة فقال: "يا أيها الناس! قدموا قريشا ولا تقدموها، وتعلموا منها ولا تعلموها قوة رجل من قريش قوة رجلين من غيرهم، وأمانة رجل من قريش تعدل أمانة رجلين من غيرهم، يا أيها الناس! أوصيكم بحب ذي أقربها أخي وابن عمي علي بن أبي طالب، فإنه لا يحبه إلا مؤمن، ولا يبغضه إلا منافق، من أحبه فقد أحبني، ومن أبغضه فقد أبغضني، ومن أبغضني عذبه الله عز وجل". "ابن النجار".
٣٧٩٩٦۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعہ کے روز ہم سے خطاب کیا، فرمایا : لوگو ! قریش کو اپنا مقتدا اور رہنما بنانا خود ان سے آگے نہ ہونا، ان سے سیکھنا اور انھیں کچھ نہ سکھانا، قریش کے ایک آدمی کی طاقت دومردوں کے برابر ہے، ایک قریشی کی امانتداری دو آدمیوں کے برابر ہے لوگو ! میں تمہیں اپنے قریبی رشتہ دار علی بن ابی طالب کے ساتھ محبت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، جو میرے بھائی اور چچا زاد ہیں، کیونکہ ان سے صرف مومن محبت کرے گا اور منافق نفرت کرے گا، سو جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اسے اللہ تعالیٰ عذاب دے گا۔ (رواہ ابن النجار)
کلام :۔۔۔ ذیل اللآلی ٦٢۔