38064- عن قتادة قال: ذكر لنا أن عمر بن الخطاب قام بمكة فقال: يا معشر قريش! إن هذا البيت قد وليه ناس قبلكم، ثم وليه ناس من جرهم فعصوا ربه، واستخفوا بحقه، واستحلوا حرمته، فأهلكهم الله، ثم قد وليتم معاشر قريش! فلا تعصوا ربه، ولا تستخفوا بحقه، ولا تستحلوا حرمته، إن صلاة فيه عند الله خير من مائة بركة، وأعلموا أن المعاصي فيه على قدر ذلك."ابن أبي عروبة".
٣٨٠٦٤۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے فرمایا : کہ ہم سے ذکر کیا گیا کہ حضرت عمر (رض) مکہ میں کھڑے ہو کر فرمانے لگے : اے قریش کی جماعت ! اس گھر کے تم سے پہلے کچھ لوگ ذمہ دار ہوئے پھر جرھم کے افراد اس کے ذمہ دار ہوئے تو انھوں نے اس کے رب کی نافرمانی کی، اور اس کے حق کی ناقدری کی، اور اس کی حرمت کو حلال کرلیا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا، پھر تم لوگ قریش کی جماعت ! اس کے ذمہ دار ہوئے، سو تم اس کے رب کی نافرمانی نہ کرنا، اور نہ اس کی حق تلفی کرنا اور نہ اس کی حرمت کو حلال سمجھنا، اس میں ایک نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں دوسری سوجگہوں کی نماز سے افضل ہے اور جان لو ! کہ اس میں گناہوں کی بھی یہی مقدار ہے۔ (ابن ابی عروبۃ)