38065- "أيضا" عن أبي نجيح أن عمر بن الخطاب كسا الكعبة القباطي1 من بيت المال وكان يكتب فيها إلى مصر فتخاط له هناك، ثم عثمان من بعده، فلما كان معاوية بن أبي سفيان كساها كسوتين: كسوة عمر القباطي، وكسوة الديباج، فكانت تكسى الديباج يوم عاشوراء، وتكسى القباطي في آخر شهر رمضان."الأزرقي".
٣٨٠٦٥۔۔۔ (اسی طرح) ابوالجحیح سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بیت مال سے کعبہ پہ کتان کے سفید باریک کپڑے کا غلاف چڑھایا، آپ اس کے بارے میں مصر لکھتے تو وہاں یہ کپڑے تیار کئے جاتے، پھر حضرت عثمان (رض) نے آپ کے بعد (بھی یہی طریقہ جاری رکھا) پھر جب امیر معاویہ بن ابی سفیان (رض) کا دور آیا تو آپ نے دوغلاف چڑھائے، ایک قبطی کپڑا حضرت عمر (رض) والا، اور ریشم کا کپڑا، چنانچہ ریشم کا غلاف دس محرم کے روز چڑھایا جاتا اور کتان کا باریک سفید قبطی غلاف رمضان کے آخر میں چڑھایا جاتا۔ (الازرقی)