38066- عن علي قال: لما انهدم البيت بعد جرهم فبنته قريش، فلما أرادوا وضع الحجر تشاجروا من يضعه، فاتفقوا أنه يضعه أول من يدخل من هذا الباب، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم من باب بني شيبة، فأمر بثوب فوضع فأخذ الحجر فوضعه في وسطه، وأمر كل فخذ أن يأخذوا بطائفة من الثوب فيرفعوه، وأخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعه."ك والدورقي"
٣٨٠٦٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب جرھم کے بعد بیت اللہ منہدم ہوگیا تو قریش نے اس کی تعمیر کی، پھر جب انھوں نے حجراسود رکھنے کا ارادہ کیا تو اس کے رکھنے میں ان کا جھگڑا ہوگیا کہ اسے کون رکھے، اس کے بعد اس پر اتفاق ہوگیا کہ جو شخص سب سے پہلے اس دروازے سے داخل ہوگا (وہی حجر اسود رکھے گا) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باب بنی شیبہ سے داخل ہوئے، آپ نے ایک کپڑا منگوایا اور اپنے ہاتھ سے اس میں حجر اسود رکھا ، اور ہر قبیلہ کے سردار سے فرمایا کہ وہ کپڑے کے کنارے کو پکڑ کر اوپر اٹھائے پھر آپ نے دیوار میں وہ پتھر رکھ دیا۔ (حاکم، الدورقی)