38178 عن جرير قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة قال لاصحابه : انطلقوا بنا إلى أهل قباء نسلم عليهم ، فأتاهم فسلم عليهم ورحبوا به ، ثم قال : يا أهل قباء ! ائتوني بأحجار من هذه الحرة فجمعت عنده أحجار كثيرة ومعه عنزة له فخط قبلتهم ، فأخذ حجرا فوضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم قال : يا أبا بكر ! خذ حجرا فضعه إلى حجري ، ثم قال : يا عمر ! خذ حجرا فضعه إلى جنب حجر أبي بكر ، ثم التفت فقال : يا عثمان ! خذ حجرا فضعه إلى جنب حجر عمر ، ثم التفت إلى الناس بآخره فقال : وضع رجل حجره حيث أحب من ذلك الخط (طب).
٣٨١٧٨۔۔۔ جریر سے روایت ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا : ہمارے ساتھ قباوالوں کے پاس چلو ہم انھیں سلام کرنا چاہتے ہیں : چنانچہ آپ ان کے پاس گئے، انھیں سلام کیا، انھوں نے آپ کو خوش آمدید کہا، پھر آپ نے فرمایا : اے اہل قبا ! میرے پاس اس حرے سے پتھر لاؤ، آپ کے پاس بہت سے پتھر جمع ہوگئے آپ کے پاس ایک نیزہ تھا آپ نے ان کے قبلہ کی لکیر کھینچی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک پتھر لے کر رکھا، اس کے بعد فرمایا : ابوبکر ! ایک پتھر لو اور اسے اس پتھر کے ساتھ رکھ دو ، پھر (حضرت عمر (رض) سے) فرمایا : عمر ! پتھر لو اور اسے ابوبکر کے پتھر کے پاس رکھ دو ۔ اس کے بعد (لوگوں کی طرف) متوجہ ہوئے فرمایا : عثمان ! پتھر لو اور اسے عمر کے پتھر کے ساتھ رکھ ود، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر آخری شخص کو دیکھ کر فرمایا : ہر ایک اس لکیر کے قریب جہاں چاہے پتھر رکھ دے۔ (طبرانی فی الکبیر)