38179 عن زرعة بن عمرو مولى الخباب قال : لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة قال لاصحابه : انطلقوا بنا إلى أهل قباء نسلم عليهم ، فلما أتاهم سلم عليهم ، ثم قال : يا أهل قباء ! أئتوني بحجارة من هذه الحرة ، فجمعت عنده ، فخط بها قبلتهم ، ثم أخذ حجرا فوضعه على الخط ، ثم قال : يا أبا بكر ! خذ حجرا فضمه إلى جنب حجري ، ففعل ، ثم قال : يا عمر ! خذ حجرا فضعه إلى جنب حجر أبي بكر ، ففعله ، ثم قال : يا عثمان ! خذ حجرا فضعه إلى جنب حجر عمر ، ففعل ، ثم التفت إلى الناس بآخره فقال : وضع رجل حجره حيث أحب على هذا الخط وفى لفظ : فقال : من أحب أن يضع فليضع حيث شاء على هذا الخط (الديلمي ، كر).
٣٨١٧٩۔۔۔ زرعہ بن عمرومولی الخباب سے روایت ہے فرمایا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے آپ نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا : ہمیں قباوالوں کے پاس لے چلو ! ہم انھیں سلام کرنا چاہتے ہیں، جب ان کے پاس پہنچے انھیں سلام کرکے فرمانے لگے : اہل قبا ! اس حرے سے میرے پاس پتھر لاؤ، چنانچہ آپ کے پاس پتھر جمع ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے ان کے قبلہ کی لکیر کھینچی، اور ایک پتھر لے کر لکیر پر رکھ دیا پھر فرمایا : ابوبکر ! پتھر لو اور اسے میرے پتھر کے ساتھ رکھ دو ، انھوں نے ایسا ہی کیا پھر ارشاد فرمایا : عمر ! پتھر لو اور اسے ابوبکر کے پتھر کے قریب رکھ دو ، انھوں نے ایسا ہی کیا، پھر فرمایا : عثمان ! پتھر لو اور اسے، عمر کے پتھر کے پاس رکھو، انھوں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد آپ لوگوں کی طرف آخر تک متوجہ ہو کے فرمانے لگے ہر شخص جہاں چاہے اس لکیر پر پتھر رکھ دے، اور ایک روایت میں ہے جو جہاں چاہے اس لکیر پر پتھر رکھ دے۔ (الدیلمی، ابن عساکر)