38681- "تكون هدنة على دخن! قيل: يا رسول الله! ما هدنة على دخن؟ قال: قلوب لا تعود على ما كانت عليه، ثم تكون دعاة الضلالة، فإن رأيت يومئذ خليفة الله تعالى في الأرض فالزمه وإن نهك جسمك وأخذ مالك، وإن لم تره فاضرب في الأرض ولو أن تموت وأنت عاض بجذل شجرة." ط، حم، د، ع، ض - عن حذيفة".
٣٨٦٨١۔۔۔ (بدعہدی کے ) دھوکے پر صلح ہوگی، کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! دھوکے کی صلح کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : دل جیسے تھے ویسے نہیں ہوں گے، پھر گمراہی کے بلانے والے ہوں گے، اس وقت اگر تمہیں اللہ کا خلیفہ زمین میں نظر آئے تو اس کے پاس چلے جانا، اگرچہ وہ تمہارے جسم کو زخمی کردے اور تمہارا مال چھین لے، اور اگر وہ نظر نہ آئے تو زمین میں نکل جانا اگرچہ تمہاری موت کسی درخت کے تنے کو چبانے کی حالت میں آئے (ابوداؤد طیالسی، مسند احمد، ابوداؤد ابو یعلی، ضیاء عن حذیفۃ