38828- "يكون قوم من أمتي يكفرون بالله وبالقرآن وهم لا يشعرون كما كفرت اليهود والنصارى، يقرون ببعض القدر ويكفرون ببعضه، يقولون: الخير من الله والشر من إبليس، فيقرؤن على ذلك كتاب الله ويكفرون بالقرآن بعد الإيمان والمعرفة، فما تلقى أمتي منهم من العداوة والبغضاء والجدال، أولئك زنادقة هذه الأمة، في زمانهم يكون ظلم السلطان، فيالهم من ظلم وحيف وأثرة، ثم يبعث الله طاعونا فيفني عامتهم، ثم يكون الخسف فما أقل من ينجو منهم، المؤمن يومئذ قليل فرحه، شديد غمه، ثم يكون المسخ فيمسخ الله عامة أولئك قردة وخنازير، ثم يخرج الدجال على أثر ذلك قريبا." طب والبغوي - عن رافع بن خديج."
٣٨٨٢٨۔۔۔ میری امت میں ایک گروہ ہوگا جو اللہ اور قرآن کا انکار کریں گے جب کہ انھیں اس کا علم و شعور نہیں ہوگا جیسے یہود و نصاریٰ نے کفر کیا کچھ تقدیر کا اقرار کریں اور کچھ انکار کریں گے وہ کہیں گے : بھلائی اللہ کی طرف سے اور شر ابلیس کی طرف سے ہے اسی عقیدہ پر قرآن پڑھیں گے ایمان و معرفت کے بعد قرآن کا انکار کریں گے میری امت ان سے دشمنی، بغض اور جدال پائے گی۔ وہ لوگ اس امت کے بےدین لوگ ہیں ان کے زمانے میں بادشاہ کا ظلم ہوگا، ان پر ظلم، افسوس اور ان پر نشانات کا افسوس ! پھر اللہ تعالیٰ طاعون بھیجے گا اور ان کی اکثریت فنا ہوجائے گی، پھر زمین میں دھنساؤ ہوگا جس میں ان کے بہت تھوڑے لوگ بچیں گے۔ اس زمانے میں مسلمان کی خوشی کم اور اس کا غم زیادہ ہوگا پھر صورتیں بگڑیں گی، اللہ تعالیٰ ان کے عام لوگوں کو بدروخنازیر بنادے گا۔ ان لوگوں کے بعد جلد ہی دجال نکل آئے گا۔ (طبرانی والبغوی عن رافع بن خدیج)