38829- "يكون للمسلمين ثلاثة أمصار: مصر بملتقى البحرين ومصر بالحيرة ومصر بالشام، فيفزع الناس ثلاث فزعات فيخرج الدجال في أعراض الناس فينهزم من قبل المشرق، فأول مصر يرده المصر الذي بملتقى البحرين، فيصير أهلها ثلاث فرق، فرقة تقيم وتقول: نشامه ننظر ما هو، وفرقة تلحق بالأعراب، وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم، ومع الدجال سبعون ألفا عليهم التيجان، فأكثر من معه اليهود والنساء، ثم يأتي المصر الذي يليهم فيصير أهله ثلاث فرق: فرقة تقول: نشامه وننظر ما هو، وفرقة تلحق بالأعراب، وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم ثم يأتي الشام فينحاز المسلمون إلى عقبة أفيق، فيبعثون سرحا لهم فيصاب سرحهم." حم، ع، كر - عن عثمان بن أبي العاص".
٣٨٨٢٩۔۔۔ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے : ایک شہردوسمندروں کے ملنے کی جگہ ہوگا ایک شہر حیرہ میں اور ایک شہر شام میں ہوگا، لوگ تین بار خوفنزدہ ہوں گے پھر دجال معمولی لوگوں میں سے نکلے گا اور مشرق کی جانب شکست کھائے گا سب سے پہلا شہر جو اسے ہٹائے گا وہ دوسمندروں کے ملنے کی جگہ والا ہوا وہاں کے باسی تین گروہ بن جائیں گے : ایک گروہ قیام کر کے کہے گا : ہم اس کے اندازہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں وہ کیا چیز ہے، ایک فرقہ دیہاتیوں سے جاملے گا اور ایک فرقہ اس شہر میں چلا جائے جو ان کے قریب ہوگا دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے ان کے سروں پر تاج ہوں گے زیادہ تر اس کے ساتھ یہودی اور عورتیں ہوں گی۔
پھر ان کے قریبی شہر میں آئے گا تو وہاں کے لوگ تین فرقے بن جائیں گے ایک فرقہ کہے گا : ہم اس کا اندازہ کرتے ہیں دیکھتے ہیں یہ کیا چیز ہے، دوسرا فرقہ دیہاتیوں میں جاسکے گا اور تیسرا فرقہ ان کے قریبی شہر سے جاملے گا پھر وہ شام میں آئے گا تو مسلمان افیق کی گھاٹی میں جمع ہوجائیں گے وہ اپنی مہم بھیجیں گے جو درست رہے گی۔۔ (مسند احمد، ابویعلی ابن عساکر عن عثمان بن ابی العاص)