39089- "إني لأول الناس تنشق الأرض عن جمجمتي يوم القيامة ولا فخر، وأعطى لواء الحمد ولا فخر، وأنا سيد الناس يوم القيامة ولا فخر، وأنا أول من يدخل الجنة يوم القيامة ولا فخر، وآتي باب الجنة فإذا الجبار عز وجل مستقبلي فأسجد له فيقول: ارفع رأسك، فإذا بقي من بقي من أمتي في النار قال أهل النار: ما أغنى عنكم كنتم تعبدون الله ولا تشركون به شيئا! فيقول الجبار: فبعزتي لأعتقنهم من النار، فيخرجون وقد امتحشوا 1ويدخلون في نهر الحياة فينبتون فيه كما تنبت الحبة في غثاء السيل ويكتب بين أعينهم: هؤلاء عتقاء الله عز وجل، فيقول أهل الجنة هؤلاء الجهنميون، فيقول الجبار: بل هؤلاء عتقاء الجبار." حم، ن والدارمي وابن خزيمة، ص - عن أنس".
٣٩٠٨٩۔۔۔ قیامت کے روز سب سے پہلے میری قبر کھلے گی مجھے اس پر کوئی فخر نہیں اور مجھے حمد کا جھنڈا دیا جائے گا تو بھی مجھے فخر نہیں، اور قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا مجھے اس پر پھر بھی فخر نہیں، اور میں قیامت کے روز سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اس پر بھی مجھے فخر نہیں، میں جنت کے دروازے پر آؤں گا تو جبار تعالیٰ میرے سامنے ہوگا میں اس کے حضور سجدہ ریز ہوں گا، وہ فرمائے گا، اپنا سراٹھاؤ جب میری امت کے وہ لوگ جو جہنم میں رہ جائیں گے تو جہنمی (ان سے) کہیں گے تم اللہ تعالیٰ عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے، تمہیں اس کا کیا فائدہ ہوا ؟ تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں انھیں جہنم سے ضرور آزاد کروں گا۔ چنانچہ وہ جہنم سے نکلیں گے اور ان کی کھالیں اور ہڈیاں جھلس گئی ہوں گی، انھیں نہر حیات میں ڈالا جائے گا تو وہ اس میں ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے میں کوئی بیچ اگتا ہے۔ ان کی پیشانیوں پر لکھا جائے گا اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ پھر جنتی انھیں جہنمی کہیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ یہ جبار کے آزاد کردہ ہیں۔ (مسند احمد، نسائی، والدارمی وابن خزیمہ سعید بن منصور عن انس)