hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 39103

.

كنز العمال

39103
Kanz al-Ummal
39090- "إني لقائم انتظر أمتي تعبر على الصراط إذ جاءني عيسى فقال: هذه الأنبياء قد جاءتك يا محمد يشتكون - أو قال: يجتمعون - ويدعون الله أن يفرق جمع الأمم إلى حيث شاء الله لغم ما هم فيه والخلق ملجمون في العرق فأما المؤمن فهو عليه كالزكمة وأما الكافر فيغشاه الموت، قال: انتظر حتى أرجع إليك، فذهب نبي الله فقام تحت العرش فلقي ما لم يلقى ملك مصطفى ولا نبي مرسل فأوحى الله إلى جبريل أن: اذهب إلى محمد فقل له: ارفع رأسك سل تعطه واشفع تشفع، فشفعت في أمتي أن أخرج من كل تسعة وتسعين إنسانا واحدا، فما زلت أتردد إلى ربي عز وجل فلا أقوم منه مقاما إلا شفعت حتى أعطاني الله من ذلك أن قال: يا محمد! أدخل من أمتك من خلق الله عز وجل من شهد أن لا إله إلا الله يوما واحدا مخلصا ومات على ذلك." حم وابن خزيمة، ص - عن أنس".
٣٩٠٩٠۔۔۔ میں کھڑا اپنی امت کا انتظار کررہاں ہوں گا کہ وہ پل صراط پارکرے، اتنے میں میرے پاس عیسیٰ (علیہ السلام) آکر کہیں گے : جناب محمد ! یہ انبیاء آپ کے پاس شکایت کررہے ہیں۔ یا فرمائیں گے۔ یہ جمع ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں کہ وہ امتوں کے اجتماع کو جہاں چاہے منتشر کرے۔ اس غم کی وجہ سے جس میں وہ مبتلا ہیں اور مخلوق منہ تک پسینے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مومن تو وہ ان کے لیے زکام کی مانند ہوگا اور کافر تو اس پر موت (کی سی حالت) طاری ہوگی۔ وہ فرمائیں گے ٹھہرو میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں، اس کے بعد اللہ کے نبی جاکر عرش کے نیچے کھڑے ہوجائیں گے۔ اس وقت ان پر ایسا القاء ہوگا جو کسی برگزیدہ فرشتے اور نہ کسی بھیجے ہوئے رسول کی طرف ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجے گا کہ محمد کے پاس جا کر ان سے کہو ! اپنا سر اٹھائیے، مانگئے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کریں، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنی امت کے بارے میں شفاعت کروں گا کہ ہرننانوے میں سے ایک انسان نکال دیں۔ پھر میں اپنے رب سے اصرار کرتا رہوں گا۔ شفاعت کیے بغیر میں اس جگہ سے نہیں اٹھوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہ عطاکرکے فرمائے گا۔ اے محمد، اپنی امت میں سے اس مخلوق خدا کو جنت میں داخل کردو جس نے لاالٰہ الا اللہ کی گواہی صرف اخلاص کے ساتھ ایک دن دی اور اسی پر فوت ہوا۔ (مسند احمد، ابن خزیمہ، سعید بن منصور عن انس)