39423- "سأل موسى ربه فقال: يا رب! ما أدنى أهل الجنة منزلة؟ فقال: هو رجل يجيء بعد ما يدخل أهل الجنة الجنة فيقال له: ادخل الجنة! فيقول: أي رب كيف وقد نزل الناس منازلهم وأخذوا أخذاتهم؟ فقال له: أترضى أن يكون لك مثل ملك ملك من ملوك الدنيا؟ فيقول: رضيت رب، فيقول: لك ذلك ومثله ومثله ومثله ومثله ومثله، فقال في الخامسة: رضيت رب! فيقول: هذا لك ولك عشرة أمثاله ولك ما اشتهت نفسك ولذت عينك، فيقول: رضيت رب: قال: رب فأعلاهم منزلة؟ قال: أولئك الذين أردت غرست كرامتهم بيدي وختمت عليها فلم تر عين ولم تسمع أذن ولم يخطر على قلب بشر." حم، م ت عن المغيرة ابن شعبة".
٣٩٤٢٣۔۔۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا عرض کیا : میرے رب ! سب سے کم درجہ جنتی کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ شخص رب ! اللہ (میں ) کیسے (جاؤں) جب کہ لوگ اپنی منزلوں اور نشتوں ہر پہنچ چکے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے : کیا تمہیں یہ بات منظور ہے کہ تمہیں دنیا کے کسی بادشاہ کی بادشاہت مل جائے وہ وعرض کرے گا : میرے رب ! مجھے منظور ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تمہارے لیے یہ بھی ہے اور اس جیسی اس جیسی اور اجیسی ہے وہ پانچ بار عرض کرے گا : میرے رب میں راضی ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : یہ بھی تیرے لیے اور اس جیسی دس اور جو ترادل چاہے اور تیری آنکھ کو بھائے وہ عرض کرے گا : میرے رب ! میں راضی ہوں۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا : رب تعالیٰ ! سب سے اعلیٰ درجہ جنتی کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ لوگ جنہیں میں نے چاہا اور ہاتھ سے ان کی عزت کے پودے لگائے اور ان پر مہر لگادی (کوئی اسے کھول نہ سکے) نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال آیا۔ (مسند احمد مسلم ترمذی عن المغیرۃ ابن شعبۃ)