3945 - عن محمد بن الحنفية أن البراء بن عازب، قال لعلي بن أبي طالب أسألك بالله إلا ما خصصتني بأفضل ما خصك به رسول الله صلى الله عليه وسلم، مما خصه به جبريل، مما بعث إليه به الرحمن، قال:
"يا براء إذا أردت أن تدعو الله باسمه الأعظم، فاقرأ من أول سورة الحديد عشر آيات وآخر الحشر، ثم قل يا من هو هكذا وليس هكذا شيء غيره أسألك أن تصلي على محمد وأن تفعل بي كذا وكذا فوالله يا براء لو دعوت علي لخسف بي". "أبو علي عبد الرحمن بن محمد النيسابوري في فوائده".
3945: محمد (رح) بن الحنیفہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت براء (رض) بن عازب نے حضرت علی (رض) ابن ابی طالب سے سوال کیا میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں مجھے خصوصیت کے ساتھ وہ افضل ترین چیز بتائیں جو خصوصیت کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتائی ہو۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے خصوصیت کے ساتھ بتائی ہو۔ اور جبرائیل (علیہ السلام) کو اللہ نے وہ چیز دے کر بھیجا ہو۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے براء جب تم چاہو کہ اللہ کے اس کے اسم اعظم کے ساتھ پکارو تو پہلے سورة حدید کی پہلی (چھ اور چار) آخر سورة حشر آیات تلاوت پھر کہو : اے وہ ذات جو ان صفات والی ہے اور کوئی ایسی نہیں ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد پر درود بھیج اور میرا یہ کام کردے۔ اللہ کی قسم ! اے براء اگر اس تو مجھ پر بھی بد دعا کرے گا مجھے بھی دھنسا دیا جائے گا۔ ابو علی عبدالرحمن بن محمد النیسا بوری فی فوائدہ۔