39562- "تحاجت الجنة والنار: فقالت النار أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين، وقالت الجنة: فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم! وعجزهم فقال الله تعالى للجنة: إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي، وقال للنار: إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي، ولكل واحدة منكما ملؤها، فأما النار فلا تمتليء حتى يضع الله تعالى قدمه عليها فتقول: قط قط قط، فهنالك تمتليء ويزوي بعضها إلى بعض، ولا يظلم الله من خلقه أحدا، وأما الجنة فإن الله ينشيء لها خلقا." حم، ق - عن أبي هريرة"
٣٩٥٦٢۔۔۔ جنت وجہنم کی تکرار ہوگی جہنم نے کہا : مجھے ظالموں اور متکبروں کی وجہ سے ترجیح حاصل ہے اور جنت نے کہا : میں تو صرف ضعفاء اور درماندہ لوگوں کا ٹھکانا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے تیری وجہ سے میں اپنے جن بندوں پر چاہوں گا رحم کروں گا اور جہنم سے فرمایا : تو میرا عذاب ہے تیری وجہ سے میں اپنے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا تم میں سے ہر ایک کا بھراؤ ہے رہا جہنم تو وہ بھرے گا نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھیں گے وہ کہے گا : بس ! بس ! بس ! تو اس وقت بھرجائے گا اور سمٹنے لگے گا : اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرتا رہی جنت تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا کردے گا۔ (مسند احمد ، مسلم عن ابوہریرہ )