40163- عن سليمان بن يسار أن سائبة أعتقه بعض الحجاج كان يلعب هو ورجل من بني عائذ فقتل السائبة العائذي، فجاء أبوه إلى عمر بن الخطاب يطلب بدم ابنه فأبى عمر أن يديه قال: ليس له مال، فقال العائذى: أرأيت لو أني قتلته؟ قال عمر: إذا تخرجون ديته، قال: فهو إذا كالأرقم إن يترك يلقم، وإن يقتل ينقم! فقال عمر: فهو الأرقم. "مالك، عب"
٤٠١٦٣۔۔۔ سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ کسی غلام کو کسی حاجی نے بےلگام چھوڑدیا، تو بنی عائد کا ایک شخص اور وہ کھیلتے تھے تو اس غلام نے اس عائذی کو مارڈالا، بعد میں اس مقتول کا باب حضرت عمر (رض) کے پاس اپنے بیٹے کے خون کا مطالبہ کرنے آیا، حضرت عمرنے اس کی دیت دینے سے انکار کردیا اور فرمایا : اس کا مال نہیں، تو عائذی بولا : آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اسے مار دیتا ؟ آپ نے فرمایا : تب تم اس کی دیت ادا کرتے وہ کہنے لگا : پھر تو وہ چتکبر اسانپ ہوا اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو کاٹتا پھرے اور اگر اسے قتل کیا جائے تو اس کا انتقام لیا جائے، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بس وہ سانپ ہی ہے۔ مالک، عبدالرزاق، سائبہ وہ آزاد کردہ غلام ہوتا ہے جس کانہ کوئی وارث ہو اور نہ آزاد کنندہ کا ولاء تو وہ جہاں چاہے اپنا مال صرکرے، اس طرح غلام آزاد کرنے سے حدیث میں ممانعت آئی ہے۔