40197- عن حيى بن يعلى يخبر أن رجلا أتى يعلى فقال: قاتل أخي! فدفعه إليه فجدعه بالسيف حتى رأى أنه قتله وبه رمق فأخذه أهله فداووه حتى برئ، فجاء يعلي فقال: قاتل أخي! فقال: أو ليس قد دفعته إليك؟ فأخبره خبره، فدعاه يعلى فإذا هو قد شلل، فحسب جروحه فوجد فيه الدية فقال له يعلى: إن شئت فادفع إليه واقتله، وإلا فدعه، فلحق بعمر فاستعدى على يعلى، فكتب عمر إلى يعلى أن: أقدم على، فقدم عليه فأخبره الخبر، فاستشار عمر علي بن أبي طالب، فأشار عليه بما قضى به يعلى، فاتفق علي وعمر على قضاء يعلى أن يدفع إليه الدية ويقتله أو يدعه فلا يقتله، وقال عمر ليعلى: إنك لقاض! ورده على عمله."عب".
٤٠١٩٧۔۔۔ حیی بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ایک شخص یعلیٰ کے پاس آیا اور کہا : یہ مرے بھائی کا قاتل ہے ! انھوں نے اسے اس کے حوالہ کردیا، اس نے تلوار سے کی ناک کاٹ دی اور وہ یہ سمجھا کہ اس نے اسے قتل کردیا ہے جب کہ اس کی کچھ سانس باقی تھی، اس کے گھروالے اسے لے گئے اور اس کا علاج معالجہ کیا اور وہ تندرست ہوگیا، پھر وہ یعلیٰ کے پاس آیا اور کہنے لگا : مرے بھائی کا قاتل ! تو انھوں نے کہا : کیا میں نے اسے تمہارے تمہارے حوالہ نہ کردیا تھا ؟ تو اس نے اس کا قصہ سنایا، یعلیٰ نے اسے بلا بھیجا، اس کے اعضاء شل ہوچکے تھے آپ نے اس کے زخموں کا اندازہ لگایا تو اس میں دیت پائی، پھر یعلیٰ نے اس سے کہا : چاہوتوا سے دیت دے دو اور اسے قتل کردو ورنہ اسے چھوڑدو، وہ حضرت عمر (رض) کے پاس چلا گیا اور یعلیٰ کے خلاف مددطلب کرنے لگا، حضرت عمرنے یعلیٰ کو لکھا : کہ مرے پاس آجاؤ ! وہ آپ کے پاس آئے اور ساراواقعہ بتایا، حضرت عمرنے حضرت علی سے مشورہ کیا تو انھوں نے یعلی کے فیصلہ کے مطابق مشورہ دیا، پھر دونوں حضرات یعلی کے فیصلہ پر متفق ہوگئے کہ وہ اسے دیت دے کرا سے قتل کردے یا اسے چھوڑدے قتل نہ کرے، حضرت عمرنے یعلیٰ سے کہا : تم قاضی ہو اور انھیں ان کے عہدہ پر واپس بھیج دیا۔ رواہ عبدالرزاق