40198- عن ابن المسيب أن رجلا من أهل الشام يدعى جبيرا وجد مع امرأته رجلا فقتله، وأن معاوية أشكل عليه القضاء فيه فكتب إلى أبي موسى الأشعري أن يسأل له عليا عن ذلك،فسأل عليا، فقال: ما هذا ببلادنا لتخبرني! فقال: إنه كتب إلى معاوية أن أسألك عنه، فقال: أنا أبو الحسن القرم! يدفع برمته إلا أن يأتي بأربعة شهداء."الشافعي، عب ص، ق".
٤٠١٩٨۔۔۔ ابن المیسب سے روایت ہے کہ شام کا ایک شخص تھا جی سے جبیرکہاجاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھا اور اسے قتل کردیا، اور حضرت معاویہ (رض) اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مشکل میں پڑگئے، انھوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ وہ اس بارے میں حضرت علی سے پوچھیں انھوں نے حضرت علی سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا : جس کی تم نے اطلاع دی ہمارے شہروں میں ایسا نہیں ہوتا، تو انھوں نے کہا : مجھے حضرت معاویہ نے کہا کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں، تو حضرت علی نے فرمایا : میں ابو الحسن عظیم سردارہوں، وہ اپنا سب کچھ دے دے البتہ اگر وہ چارگواہ پیش کرے تو دوسری بات ہے۔ الشافعی، عبدالرزاق ، سعید بن منصور، بیھقی