4042 - عن أنس "أن رجلا كان يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي فكان إذا أملى عليه سميعا كتب سميعا عليما، وإذا أملى عليه سميعا عليما كتب سميعا بصيرا، وكان قد قرأ البقرة وآل عمران، وكان من قرأهما قرأ قرآنا كثيرا، فتنصر الرجل، فقال: إنما كنت أكتب ما شئت عند محمد، فمات فدفن، فلفظته الأرض، ثم دفن فلفظته الأرض، قال أنس قال أبو طلحة: فأنا رأيته منبوذا على وجه الأرض". "ابن أبي داود في المصاحف".
4042: حضرت انس (رض) فرماتے ہیں ایک شخص رسول اللہ کی وحی لکھتا تھا۔ جب آپ اس کو سمیعا لکھواتے تو وہ سمیعا علیما لکھ دیتا۔ اور جب سمیعا لکھواتے تو سمیعا بصیرا لکھ دیتا۔ اس شخص نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران پڑھ رکھی تھی ۔ اس نے سارا قرآن پڑھ رکھا تھا۔ لیکن (معاذ اللہ ! ) پھر یہ شخص نصرانی ہوگیا۔ اور کہنے لگا : میں محمد کے ہاں جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا۔ پھر اس کا انتقال ہوا تو دفن کیا گیا لیکن زمین نے اس کو باہر پھینک دیا۔ پھر دفن کیا گیا تو پھر پھینک دیا۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں مجھے حضرت ابو طلحہ (رض) نے بتایا کہ میں نے خود اس کو زمین پر پڑا ہوا دیکھا۔ ابن ابی داؤد فی المصاحف۔