40423- عن عكرمة مولى ابن عباس أن اسم الهذلي الذي قتلت إحدى امرأتيه الأخرى فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بغرة في الجنين وبدية المرأة اسمه حمل بن مالك بن النابغة من بني كثير بن حباشة، واسم المرأة القاتلة أم عفيف ابنة مسروح من بني سعد بن هذيل، وأخوها العلاء بن مسروح؛ والمقتولة مليكة بنت عويمر من بني لحيان ابن هذيل، وأخوها عمرو بن عويمر؛ فقال العلاء بن مسروح: لا أكل، ولا شرب ولا استهل، ولا نطق فمثل هذا بطل؛ فقال عمرو بن عويمر: إن ابننا ذكر، فقضى النبي صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة ذكر أو أنثى أو فرس أو مائة شاة أو عشر من الإبل."عب" "
٤٠٤٢٣۔۔۔ عکرمہ، حضرت ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ وہ حذلی جس کی دوبیویوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کردیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچہ کے بارے میں غلام کا اور عورت کے بارے میں دیت کا فیصلہ فرمایا تھا اس کا نام حمل بن مالک بن نابغہ تھا جو بنی کثیر بن حباثہ سے تعلق رکھتا تھا قاتل عورت کا نام ام عفیف بنت مسروح تھا جس کا تعلق بنی سعد بن ھذیل سے تھا اور اس کا بھائی علاء بن مسروح تھا، اور مقتول عورت کا نام ملیکۃ بنت عویمر تھا جس کا تعلق بنی الحیان بن ھذیل سے تھا اور اس کا بھائی عمروبن عویمر تھا۔ علاء بن مسروح کہنے لگا : جس نے کھایانہ پیانہ چیخا نہ چلایا اس جیسا رائیگاں ہوتا ہے تو عمروبن عویمر نے کہا : ہمارا بیٹا تھا، تو بنی (علیہ السلام) نے پیٹ کے بچہ ک ے بارے میں غلام یا لونڈی یا گھوڑے یاسوبکریوں یادس اونٹوں کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق