40436- عن سعيد بن المسيب قال: لما حج عمر حجته الأخيرة وجد رجلا من المسلمين قتيلا بفناء وادعة فقال لهم: علمتم لهذا القتيل قاتلا منكم؟ قالوا: لا، فاستخرج منهم خمسين شيخا فأدخلهم الحطيم فاستحلفهم بالله رب هذا البيت الحرام ورب هذا البلد الحرام ورب هذا الشهر الحرام أنكم لم تقتلوه ولا علمتم له قاتلا، فحلفوا بذلك، فلما حلفوا قال: أدوا ديته مغلظة: فقال رجل منهم: يا أمير المؤمنين! أما تجزيني يميني من مالي؟ قال: لا، إنما قضيت عليكم بقضاء نبيكم صلى الله عليه وسلم."قط، ق وقال: رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم منكر وفيه عمر ابن صبح أجمعوا على تركه".
٤٠٤٣٦۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے فرمایا : جب حضرت عمر (رض) نے اپنا آخری حج کیا تو وادعہ کے اطراف میں ایک مسلمان شخص کو مردہ پایا تو آپ نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں پتہ ہے کہ تم میں اس کا قاتل کون ہے ؟ تو انھوں نے کہا : نہیں تو حضرت عمر (رض) نے ان سے پچاس بوڑھے آدمی نکالے اور انھیں حطیم میں داخل کیا اور ان سے اللہ کی قسم لی جو بیت الحرام کا حرمت والے شہر کا اور حرمت والے مہینہ کا رب ہے کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ تمہیں قاتل کا پتہ ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کی قسم کھائی، جب انھوں نے قسمیں کھالیں تو آپ نے فرمایا : اس کی زیادہ دیت اداکرو۔ تو ایک شخص بولا : امیرالمومنین ؟ کیا میری قسم میرے مال کی جگہ نہیں لے سکتی ؟ آپ نے فرمایا : نہیں میں نے تمہارے سامنے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ کیا۔ (دارقطنی بیہقی وقال : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اس روایت کی نسبت کچھ زیادتی کے ساتھ ہے اس سند میں عمر بن صبح ہے جس کی روایت ترک کرنے پر اجماع ہے) ۔ کلام :۔۔۔ ضعاف الدارقطنی ١٨٤۔