40442- عن سهل بن أبي حثمة أن نفرا من قومه انطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها فوجدوا أحدهم قتيلا فقالوا للذين وجدوه عندهم: قتلتم صاحبنا! قالوا: ما قتلنا ولا علمنا قاتلا، فانطلقوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا، يا نبي الله! انطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلا، قال النبي صلى الله عليه وسلم "الكبر! الكبر"! فقال لهم: "تأتون بالبينة على من قتل"؟ قالوا: ما لنا بينة، قال: "فيحلفون لكم"؟ قالوا: لا ترضى بأيمان اليهود، فكره النبي صلى الله عليه وسلم أن يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة."ش".
٤٠٤٤٢۔۔۔ سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے وہاں جاکر منتشر ہوئے تو انھیں ایک مقتول پڑاملاتو انھوں نے ان لوگوں سے کہا جن کے پاس تھا تم نے ہمارا آدمی قتل کیا ہے ! تو انھوں نے کہا نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ ہے تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور کہنے لگے یا نبی اللہ ! ہم خیبر اور وہاں ہمارے کسی آدمی نے ایک مقتول دیکھاتو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑا معاملہ ہے، بڑا معاملہ ہے، پھر ان سے فرمایا : کیا تم قاتل کے گواہ لاسکتے ہو ؟ تو وہ کہنے لگے : ہمارا کوئی گواہ نہیں ہے آپ نے فرمایا : پھر وہ تمہارے لیے قسمیں کھائیں ؟ انھوں نے کہا : یہودیوں کی قسموں پر ہم راضی نہیں تو آپ نے یہ ناپسند سمجھا کہ اس کا خون رائیگاں جائے تو آپ نے اپنی طرف سے صدقہ کے سو اونٹوں سے اس کی دیت دی۔ رواہ ابن ابی شیبۃ