40552- عن زيد بن خالد الجهني قال: جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عن اللقطة فقال: "عرفها سنة ثم اعرف عفاصها ووكاءها - أو قال: "وعاءها - فإن جاء صاحبها فادفعها إليه وإلا استنفقها - أو: استمتع بها" - قال: يا رسول الله! ضالة الغنم؟ قال: "إنما هي لك أو لأخيك أو للذئب"؛ فسأله عن ضالة الإبل، فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ما لك ولها! معها حذاؤها وسقاؤها، ترد الماء وتأكل الشجر، دعها حتى يلقاها ربها"."عب".
٤٠٥٥٢۔۔۔ زید بن خالدالجہنی سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر لقطہ کے بارے میں پوچھنے لگا : آپ نے فرمایا : سال بھر اس کا اعلان کرو، پھر اس کا تھیلا اور ڈوری پہچانوپھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤیا اسے خرچ میں لاؤ اس نے کہا : یارسول اللہ ! گمشدہ بکری ؟ آپ نے فرمایا : وہ تمہارے لیے یا تمہارے بھائی کے لیے یا پھر بھیڑیئے کے لیے ہے پھر اس نے گمشدہ اونٹوں کے متعلق پوچھا : آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور فرمایا : تمہیں ان سے کیا واسطہ ! ان کے ساتھ چلنے اور پینے کا سامان ہے پانی گھاٹ سے پی لیں گے اور درختوں کے پتے چرلیں گے انھیں چھوڑدویہاں تک کہ ان کا مالک آجائے۔ رواہ عبدالرزاق