4061 - عن أبي بن كعب أنه كان له جرين فيه تمر وكان يتعاهده فوجده ينقص فحرسه ذات ليلة، فإذا هو بدابة شبه الغلام المحتلم قال فسلمت فرد السلام، فقلت: ما أنت جني أم أنسي؟ فقال: جني فقلت ناولني يدك فناولني، فإذا يده يد كلب، وشعره شعر كلب فقلت هكذا خلق الجن قال لقد علمت الجن أنه ما فيهم من هو أشد مني قلت ما حملك على ما صنعت؟ قال بلغنا أنك رجل تحب الصدقة، فأحببنا أن نصيب من طعامك، قلت فما الذي يجيرنا منكم؟ قال هذه الآية، آية الكرسي، التي في سورة البقرة، من قالها حين يمسي أجير منا حتى يصبح، ومن قالها حين يصبح أجير منا حتى يمسي، فلما أصبح أبي غدا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال صدق الخبيث". "ن والحارث ك والروياني وأبو الشيخ في العظمة طب ك وأبو نعيم ق معا في الدلائل ص".
4061: ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میری ایک (کھجوریں سکھانے کی) جگہ تھی۔ جہاں ہر روز جاتا تھا ایک مرتبہ کھجوریں کم پائیں تو میں نے ایک رات وہاں چوکیداری کی۔ دیکھا کہ ایک جانور ہے جو لڑکے کی مانند دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے اس کو سلام کیا اس نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے پوچھا تو جن ہے یا انسان ؟ اس نے کہا : جن۔ میں نے اس کو اپنا ہاتھ پکڑانے کو کہا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔ اس کا ہاتھ کتے کے ہاتھ کی مانند تھا۔ اور اس کے بال بھی کتے کے بال کی طرح تھے ۔ میں نے اس سے پوچھا کیا جنوں کے جسم ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ اس نے میرے جواب کے بجائے کہا : جنوں کو یہ بات معلوم ہے کہ میں ان میں اس وقت سب سے زیادہ قوت والا ہوں۔ میں نے اس سے اس چوری کی وجہ پوچھی تو بولا : ہم نے سنا تھا آپ صدقہ کرنے کو پسند کرتے ہیں تو ہم کو خواہش ہوئی کہ آپ کا طعام کھانا چاہیے۔ آیۃ الکرسی جو سورة بقرہ میں ہے۔ جس نے اس کو شام سے پڑھا صبح تک ہم سے حفاظت میں رہا اور جس نے صبح پڑھا شام تک ہم سے حفاظت میں رہا۔
حضرت ابی (رض) صبح کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کا سارا ماجرا کہہ سنایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدق اخبث، خبیث نے سچ کہا۔ (نسائی، الحارث، مستدرک الحاکم، الرویانی ، العظمۃ لابی الشیخ، الکبیر للطبرانی، الحاکم وابو نعیم فی الدلائل، السنن لسعید بن منصور)