40680- عن عبد الله بن قيس أو ابن أبي قيس قال: كنت فيمن تلقى عمر مع أبي عبيدة مقدمه الشام، فبينما عمر يسير إذ لقيه المقلسون من أهل أذرعات بالسيوف والرماح فقال: مه! ردوهم وامنعوهم، فقال أبو عبيدة: يا أمير المؤمنين! هذا سنة العجم، فإنك إن تمنعهم منها يروا أن في نفسك نقضا لعهدهم، فقال عمر: دعوهم في طاعة أبي عبيدة."أبو عبيدة، كر".
٤٠٦٨٠۔۔۔ عبداللہ بن قیس یا ابن ابی قیس سے روایت ہے فرمایا : میں ان لوگوں میں تھا جو ابوعبیدہ (رض) کے ساتھ ان کی شام سے واپسی پر حضرت عمر (رض) سے ملے اسی اثنا میں کہ حضرت عمر (رض) چل رہے تھے کہ انھیں آذرعات کے کچھ لوگ تلواریں اور نیزوں کے ساتھ گاتے بجاتے ملے آپ نے فرمایا : ارے ! انھیں واپس کرو اور منع کرو، توابوعبیدہ (رض) نے فرمایا : امیرالمومنین ! یہ عجم کا طریقہ ہے آپ اگر انھیں منع کریں گے تو وہ سمجھیں گے کہ آپ کے دل میں ان کے لیے بعدعہدی ہے تو حضرت عمرنے فرمایا : انھیں ابوعبیدہ کی فرمان برداری میں بلاؤ ! ابوعبیدۃ، ابن عساکر