hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4227

.

كنز العمال

4227
Kanz al-Ummal
4227 - عن عمر قال: "فيم ترون أنزلت هذه الآية {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ} ؟ فقالوا: الله أعلم، فغضب عمر فقال: قولوا نعلم أو لا نعلم، فقال ابن عباس: في نفسي منها شيء يا أمير المؤمنين، فقال عمر: قل يا ابن أخي، ولا تحقر نفسك، فقال ابن عباس: ضرب مثلا لعمل، فقال عمر أي عمل؟ فقال لعمل، فقال عمر: لرجل غني يعمل بالحسنات ثم بعث الله إليه بشيطان فعمل بالمعاصي حتى أغرق أعماله كلها". "ابن المبارك في الزهد وعبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم ك".
4227: حضرت عمر (رض) نے ایک مرتبہ دریافت فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی :
ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب الخ (البقرہ : 266، مکمل آیت)
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لیے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے منے بچے بھی ہوں تو (اچانک) اس باغ پر آگ بھرا ہوا بگولہ جلے اور وہ جل ( کر راکھ کا ڈھیر و) جائے اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
لوگوں نے جواب دیا : اللہ زیادہ جانتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) غضبناک ہوگئے۔ پھر فرمایا : یوں کہو : ہم جانتے یں یا نہیں جانتے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے عرض کیا : میرے دل میں اس سے متعلق کچھ بات ہے امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ اس مالدار کی مثال ہے جو اچھے اور نیک عمل کرے پھر اللہ اس کے پاس شیطان کو بھیجے اور وہ برے اعمال میں غرق ہوجائے اور اس کے تمام نیک اعمال تباہ و برباد ہوجائیں۔ ابن المبارک فی الزھد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم)