4231 - عن عكرمة أن عمر بن الخطاب: كان إذا تلا هذه الآية: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} إلى قوله {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ} "قال اقتتل الرجلان". "عبد بن حميد".
4231: عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) جب یہ آیت تلاوت کرتے :
خالص منافق اور مخلص مومن
ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیاۃ الدنیا سے و من الناس من یشری نفسہ مکمل آیت تک۔ (البقرہ : 204 تا 207)
اور کوئی شخص تو ایساے جس کی گفتگو دنیا کی زدگی میں تم کو دل کش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے اور حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی پیدا کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کرے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔ اور اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے۔ اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے۔
جب مذکورہ آیت تلاوت فرماتے تو کہتے ان دونوں نے ایک دوسرے سے قتال کیا ہے۔ عبد بن حمید۔
فائدہ : دوسرے شخص سے مراد حضرت صہیب (رض) ہیں اور پہلے سے کوئی کافر و مشرک مکہ۔ جب حضرت صہیب (رض) مکہ سے ہجرت مدینہ کے لیے نکلے تو قریش کے کچھ کافر آپ (رض) نے فرمایا : میرے ترکش میں جس قدر تیر ہیں وہ ختم ہوجائیں پھر میری تلوار ٹوٹ جائے اس تک تم میرے قریب نہیں آسکتے اور تم جانتے ہو میں تم میں سب سے زیادہ تیر انداز ہوں اگر تم چاہو تو میں تم کو مال دوں تم میرا راستہ چھوڑ دو ۔ انھوں نے مال لیا۔ یہی دو شخص مراد ہیں۔