42406- إذا مات أحد من إخوانكم فنثرتم عليه التراب فليقم رجل منكم عند رأسه ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه يسمع ولكن لا يجيب، ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه يستوي جالسا، ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه يقول: أرشدنا رحمك الله! ولكن لا تشعرون، ثم ليقل: اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، وأنك رضيت بالله ربا وبمحمد نبيا وبالإسلام دينا وبالقرآن إماما. فإنه إذا فعل ذلك أخذ منكر ونكير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له: اخرج بنا من عند هذا، ما نصنع به فقد لقن حجته! ولكن الله عز وجل لقنه حجته دونهم قال رجل: يا رسول الله! فإن لم أعرف أمه! قال: انسبه إلى حواء."طب، كر، الديلمي - عن أبي أمامة".
٤٢٤٠٦۔۔۔ جب تمہارا کوئی بھائی مرجائے اور تم اس پر مٹی ڈال چکوتوتم میں سے ایک شخص اس کے سرہا نے کھڑے ہو کر کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! کیونکہ وہ سن رہا ہوتا ہے لیکن جواب نہیں دے سکتا پھر کہے اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ جائے گا پھر کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو وہ کہے گا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ہماری رہنمائی کر لیکن تمہیں اس کا شعور وعلم نہیں پھر کہے : اس بات کو دیاکر جس پر تو دنیا سے رخصت ہوا یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور تو اللہ تعالیٰ کو رب ماننے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی ماننے اسلام کو دین اور قرآن کو امام ماننے پر راضی ہے۔ کیونکہ جب وہ ایسا کرے گا کہ تو منکرنکیر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے ہمیں اس کے پاس سے لے چلوہم اس کے پاس کیا کریں گے اسے اس کی دلیل سمجھادی گئی لیکن اللہ تعالیٰ ان دونوں کے سامنے اسے دلیل کی تلقین کرے گا۔ ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! اگر مجھے اس کی ماں کا پتہ نہ ہو آپ نے فرمایا : اسے حضرت حوا علیہماالسلام کی طرف منسوب کردو۔ طبرانی فی الکبیر، ابن عساکر ، الدیلمی عن ابی امامۃ، کلام۔۔۔ الاتقان ٥٧٣۔