42407- يا أبا أمامة! ألا أدلك على كلمات هن خير للميت من الدنيا وما فيها وما غابت عليه الشمس وطلعت! إذا مات أخوكم المؤمن وفرغتم من دفنه فليقم أحدكم عند قبره ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! والذي نفس محمد بيده إنه ليستوي قاعدا! ثم ليقولن: يا فلان ابن فلانة! فيقول: أرشدني إلى ما عندك يرحمك الله! فليقل: اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، وقد كنت رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا، فيقوم منكر فيأخذ بيد نكير فيقول: قم بنا، ما يقعدنا عند هذا وقد لقن حجته! ويكون الله حجيجهما دونه. قيل: إن كنت لا أحفظ اسم أمه. قال: فانسبه إلى حواء."ابن النجار - عن أبي أمامة".
٤٢٤٠٧۔۔۔ اے ابو امامۃ ! کیا میں تمہیں اسے کلمات نہ سکھاؤں جو میت کے لیے دنیا اور اس کی چیزوں سے بہتر ہوں جب تمہارا مؤمن بھائی فوت ہوجائے اور تم اس کے دفن سے فارغ ہوجاؤ تو تمہارا ایک اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے کا پھر ضرور کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو وہ کہے کا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے جو باتیں تیرے پاس ہیں مجھے ان کی رہنمائی کر پس وہ کہے : اس بات کو یاد کر جس پر تو دنیا سے نکلا یعنی لاالہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی اور تو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہے۔ پھر منکراٹھ کر نکیر کا ہاتھ پکڑ کرک ہے گا : ہمیں لے چلواس کے پاس بیٹھنے سے ہمیں کیا مطلب جب کہ اسے اس کی دلیل کی تلقین کردی گئی اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کا اس کے سامنے حجت سمجھانے والا ہوگا کسی نے کہا : اگر مجھے اس کی ماں کا نام یادنہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : اسے حوا (علیھا السلام) کی طرف منسوب کردو۔ ابن النجار عن ابی امامۃ