4255 - عن زر قال : انطلقت أنا وعبيدة السلمانى إلى علي فأمرت عبيدة ان يسأله عن الصلاة الوسطى ؟ فسأله فقال : كنا نراها صلاة الصبح فبينا نحن نقاتل أهل خيبر فقاتلوا حتى أرهقونا عن الصلاة وكان قبل غروب الشمس ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اللهم املا قلوب هؤلاء القوم الذين شغلونا عن الصلاة الوسطى وأجوافهم نارا ، فعرفنا يومئذ
أنها الصلاة الوسطى.
(ابن جرير).
4255: زر (رض) فرماتے ہیں : میں اور عبیدہ سلمانی حضرت علی (رض) کی خدمت میں پہنچے میں نے عبیدہ کو کہا کہ آپ (رض) سے الصلاۃ الوسطی (درمیانی نماز) کے بارے میں سوال کریں۔ (کہ وہ کون سی نماز ہے) چنانچہ حضرت عبیدہ نے سوال کیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہم اس کو صبح کی نماز سمجھتے تھے۔ مگر ایک مرتبہ ہم اہل خیبر کے ساتھ قتال میں مصروف تھے۔ انھوں نے لڑائی کو اس قدر طول دیا کہ ہم کو نماز سے روک دیا حتی کہ غروب شمس کا وقت ہوگیا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس قوم کے دلوں کو بھر دے جنہوں نے ہم کو (الصلاۃ الوسطی) نماز سے اور کام میں مشغول کردیا اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ اس دن ہم کو معلوم ہوا کہ الصلاۃ الوسطی سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ (رواہ ابن جریر)