4267 - عن الزبرقان قال: "إن رهطا من قريش مر بهم زيد بن ثابت وهم مجتمعون، فأرسلوا إليه غلامين لهم يسألانه عن الصلاة الوسطى فقال: هي الظهر، ثم انصرفا إلى أسامة بن زيد فسألاه؟ فقال: هي الظهر إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي الظهر بالهجير، فلا يكون وراءه إلا الصف والصفان، والناس في قائلتهم وتجارتهم، فأنزل الله تعالى {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى} فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لينتهين رجال أو لأحرقن بيوتهم". "حم ن وابن منيع وابن جرير والشاشي ص".
4267: زبرقان (رح) سے مروی ہے کہ قریش کے ایک قافلہ پر زید بن ثابت کا گذر ہوا۔ یہ لوگ سب اکٹھے تھے۔ انھوں نے اپنے دو غلام حضرت زید (رض) کے پاس بھیجے تاکہ وہ آپ (رض) سے الصلاۃ الوسطی کے بارے میں سوال کریں۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہ ظہر کی نماز ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز (کڑی) دوپہر میں پڑھتے تھے۔ آپ کے پیچھے ایک یا دو صفیں ہوتی تھیں۔ لوگ اپنے کاروبار اور تجارت وغیرہ میں مشغول ہوتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطی ۔
نمازوں کی خصوصا درمیانی نماز کی پابندی کرو۔
(اس وجہ سے ظہر کی تاکید نازل ہوئی) لہٰذا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگ باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کو جلا ڈالوں گا۔ (اگر وہ ظہر کی نماز میں حاضر نہ ہوں گے) مسند احمد، نسائی، ابن منیع، ابن جریر، الشاشی، السنن لسعید بن منصور۔