4268 - عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث صفوان بن بيضاء في سرية عبد الله بن جحش قبل الأبواء، فغنموا وفيهم نزلت {يَسْأَلونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ} الأية. "ابن منده وقال غريب كر".
4268: یسئلونک عن الشہر الحرام قتال فیہ۔
ترجمہ : وہ لوگ آپ سے حرمت والے ماہ میں قتال کا سوال کرتے ہیں۔
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان بن بیضاء کو عبداللہ بن جحش کی امارت میں ابواء کی طرف لشکر میں بھیجا وہاں انھوں نے غنیمت حاصل کی اور (مذکور) آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ (ابن مندہ غریب، ابن عساکرٰ )
فائدہ : رجب کی آخری تاریخ میں انھوں نے قتال کرکے کافروں کو ہزیمت دی تھی لیکن کافروں نے مسلمانوں پر الزام لگایا کہ انھوں نے تو ذوالقعدہ کی پہلی تاریخ میں قتال کیا ہے اور حرمت کے مہینے ذی قعدہ کو پامال کیا ہے۔ تب اللہ پاک نے یہ آیات نازل فرمائیں کہ کہہ دو حرمت کے ماہ میں تال گناہ ہے لیکن اس سے بڑا گناہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ کا کفر کرنا وغیرہ ہے۔