42663- ما من مسلم يعمر في الإسلام أربعين سنة إلا صرف الله عنه ثلاثة أنواع من البلاء: الجذام والجنون والبرص، فإذا بلغ الخمسين يسر الله عليه الحساب، فإذا بلغ الستين رزقه الله الإنابة إليه بما يحب، فإذا بلغ السبعين أحبه الله وأحبه أهل السماء، فإذا بلغ الثمانين قبل الله حسناته وتجاوز عن سيئاته، فإذا بلغ التسعين غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر وسمى "أسير الله في الأرض" وشفع وشفع في أهل بيته."الحكيم، ع - عن أنس".
42663 :۔۔۔ جس مسلمان کی بھی اسلام میں چالیس سال عمر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس سے تین طرح کی مصیبتیں دور کردیتا ہے جذاب، جنون اور کوڑھ، پس جب وہ پچاس برس کا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسان کردیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں انابت عطا کردیتا ہے اور جب ستر سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور آسمانی فرشتے اسے پسند کرتے ہیں اور جب اسی سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول فرماتا اور اس کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جب نوے سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیتا ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی اس کا نام رکھا جاتا ہے اور اس کی ذات اور اس کے گھر والوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ الحکیم، ابو یعلی عن انس۔