4285 - عن زر بن حبيش قال: قلت لعبيدة سل عليا عن الصلاة الوسطى فسأله؟ فقال: "كنا نرى أنها صلاة الفجر حتى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يوم الخندق شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر حتى غابت الشمس ملأ الله قبورهم وأجوافهم نارا ". "عب وعبد بن حميد وابن زنجويه في ترغيبه ن هـ ح وابن جرير ق".وعوانة: بفتح العين المهملة وبعد الألف نون. التاج المكلل "ص 150
4285: زر (رض) بن حبیش (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عبیدہ کو کہا کہ وہ حضرت علی (رض) سے صلوۃ الوسطی کے بارے میں سوال کریں۔ چنانچہ (ان کے سوال کرنے پر حضرت علی (رض) نے) فرمایا : ہم سمجھتے تھے کہ وہ ظہر کی نماز ہے۔ حتی کہ میں نے خندق کے روز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : انھوں نے ہم کو صلوۃ الوسطی عصر کی نماز سے مشغول کردیا حتی کہ سورج بھی غروب ہوگیا۔ اللہ ان کی قبروں اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ (عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن زنجویہ ۔ نسائی، ابن ماجہ، بخاری، ابن جریر، السنن للبیہقی)