4286 - عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: "يوم الأحزاب ملأ الله بيوتهم وقبورهم وأجوافهم نارا. كما شغلونا عن الصلاة الوسطى حتى غابت الشمس ". "حم خ م والدارمي د ت ن وابن خزيمة وابن جرير وابن الجارود وأبو عوانة ق".
4286: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ خندق کے روز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
اللہ ان کے گھروں، ان کی قبروں اور ان کے دلوں کو آگ سے بھرے، جیسے انھوں نے ہم کو صلوۃ وسطی سے روک دیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، الدارمی، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن خزیمہ، ابن جریر، ابن الجارود، ابو عوانہ، السنن للبیہقی)
فائدہ : اس بارے میں جو مختلف روایات ہیں کہ بعض مرویات میں صلوۃ الوسطی سے ظہر مراد ہے اور اکثر مرویات میں عصر مراد ہے اس کی وجہ غالباً حضرت علی (رض) نے ارشاد فرما دی جیسا کہ 4285 نمبر حدیث میں گذرا کہ ہم (صحاب کرام) پہلے صلوۃ الوسطی سے ظہر کی نماز مراد لیتے تھے لیکن خندق کے روز فرمان رسول سے ہم پر آشکارا ہوگیا کہ اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔