42861- عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف أنه أخبره رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أن السنة في الصلاة على الجنازة أن يكبر الإمام ثم يقرأ أم القرآن بعد التكبيرة الأولى سرا في نفسه، ويصلي على النبي صلى الله عليه وسلم ثم يخلص الدعاء للميت في التكبيرات الثلاث، لا يقرأ فيهن بعد التكبيرة الأولى، ويسلم سرا تسليما خفيا حتى ينصرف، فالسنة أن يفعل ويفعل الناس بمثل ما فعل إمامهم."كر".
٤٢٨٦١۔۔ ابوامامہ سھل بن حنیف سے روایت ہے کہ انھیں نبی کے کسی صحابی نے بتایا کہ جنازہ میں یہ سنت ہے کہ امام تکبیر کہہ کر سورة فاتحہ کی تلاوت پہلی تکبیر کے بعد آہستہ کرے ، نبی پر درود بھیجے، اور میت کے لیے خصوصا دعا کرے تینوں تکبیروں میں ان میں تکبیراولی کے علاوہ قرات نہ کرے اور پوشیدہ طریقہ سے آہستہ سے سلام پھیرے یہاں تک کہ فارغ ہوجائے بس سنت یہی ہے کہ وہ امام اسی طرح کرے اور لوگ اپنے امام کی طرح کریں۔ رواہ ابن عساکر۔