42902- مسند أسامة بن زيد كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فأرسلت إليه إحدى بناته تدعوه وتخبره أن صبيا لها في الموت فقال للرسول: ارجع إليها فأخبرها أن لله ما أخذ وله ما أعطى، وكل شيء عنده بأجل مسمى، فمرها فلتصبر ولتحتسب! فعاد الرسول فقال: إنها قد أقسمت لتأتينها، فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقام معه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد بن ثابت ورجال وانطلقت معهم، فرفع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبي ونفسه تقعقع كأنها في شن، ففاضت عيناه، فقال له سعد: ما هذا يا رسول الله؟ قال: هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده، وإنما يرحم الله من عباده الرحماء."ط، حم، د، ت، هـ, وأبو عوانة، حب".
٤٢٩٠٢۔۔ (مسنداسامہ بن زید) ہم نبی کے پاس تھے کہ اتنے میں آپ کی کسی صاحبزادی نے آپ کی طرف پیام بھیجا کہ ان کا بچہ موت کی کشمش میں ہے تو رسول اللہ نے فرمایا جاؤ اور ان سے کہوجو اللہ کا تھا وہ لے لیا، اور جو وہ دے وہ بھی اسی کیا ہے اور ہرچیز کی اس کے ہاں ایک مدت ہے اور ان سے کہنا کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں۔ (چنانچہ قاصد واپس گیا) پھر واپس آیا اور کہنے لگا کہ انھوں نے قسم کھائی ہے کہ آپ ضرور تشریف لائیں تو نبی برخاست ہوئے اور آپ کے ہمراہ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت اور کئی مرد اٹھے میں بھی ان کے ساتھ چل دیا، جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو) بچہ نبی کو تھمایا گیا اور اس کی روح نکل رہی تھی گویا وہ کسی مشکیزے میں ہے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں، توسعد آپ سے کہنے لگے یارسول اللہ یہ کیا کیفیت ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں کے دلوں میں ڈالتا ہے اور اللہ اپنے مہربان بندوں پر ہی مہربانی فرمات ہے۔ ابوداؤد طیالسی، ، مسنداحمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابوعوانہ، ابن حبان۔