42951- عن أبي الحسناء عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه مر بقبرين فأخذ سعفة أو جريدة فشقها فجعل إحداهما على أحد القبرين والشقة الأخرى على القبر الآخر، فسئل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ر جل كان لا يتقى من البول، والمرأة كانت تمشي بين الناس بالنميمة، فاستنظر بهما العذاب إلى يوم القيامة."ق في كتاب عذاب القبر".
٤٢٩٥١۔۔ ابوالحسنا حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں آپ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں آپ دوقبروں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ایک شاخ یاٹہنی لی اور اسے درمیان سے توڑ کر ایک قبرپر ایک اور دوسری قبرپردوسری لگادی کسی نے پوچھا تو آپ نے فرمایا ایک شخص توپیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسری قبر والی عورت تھی جو لوگوں کے درمیان چغل خوری کیا کرتی تھی تو ان دونوں شاخوں کی وجہ سے قیامت تک ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہوجائے گی۔ بیہقی فی کتاب عذاب القبر۔