42979- عن أبي هريرة قال: إن أعمالكم تعرض على أقربائكم من موتاكم، فإن رأوا خيرا فرحوا به، وإن رأوا شرا كرهوه، وإنها يستخبرون الميت إذا أتاهم من مات بعدهم، حتى أن الرجل ليسأل عن امرأته أتزوجت أم لا؟ حتى أن الرجل ليسأل عن الرجل فإن قيل له قد مات، قال: هيهات! ذهب بذلك، فإن لم يحسبوه عندهم قالوا: إنا لله وإنا إليه راجعون، ذهب به إلى أمه الهاوية المربية."ابن جرير".
٤٢٩٧٩۔۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا : تمہارے اعمال تمہارے قریبی مردہ رشتہ داروں کے سامنے پیش ہوتے ہیں ، اگر وہ کوئی نیکی دیکھیں تو خوش ہوتے ہیں اور کوئی برائی دیکھتے ہیں توا سے ناپسند کرتے ہیں اور جب ان کے پاس کوئی نئی میت آتی ہے جوان کے بعد مرا ہو تو اس سے پوچھتے ہیں کہ یہاں تک کہ مرد اپنی بیوی کے متعلق پوچھتا ہے کیا اس کی شادی ہوگئی یا نہیں ؟ اور کوئی شخص کسی شخص کے متعلق دریافت کرتا ہے اگر کوئی اس سے کہہ دے کہ وہ مرچکا ہے وہ کہتا ہے افسوس، اسے وہاں لے جایا گیا، پھرا گروہ اسے اپنے پاس نہ محسوس کریں تو کہتے ہیں اناللہ واناالیہ راجعون، اس کے ٹھکانے جہنم جو تربیت کرنے والی ہے اس میں لے جایا گیا ہے۔ روہ ابن جریر۔