4350- "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن طارق بن شهاب قال: "جاء رجل من اليهود إلى عمر فقال يا أمير المؤمنين: إنكم تقرؤون آية في كتابكم لو علينا معشر اليهود نزلت لا تخذنا ذلك اليوم عيدا قال أي آية هي؟ قال قوله تعالى: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي} ، فقال عمر: "والله إني لأعلم اليوم الذي نزلت فيه على رسول الله صلى الله عليه وسلم والساعة التي نزلت فيها على رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة يوم جمعة". "حم والحميدي وعبد بن حميد خ م ت ن وابن جرير وابن المنذر حب هق"
4350: (مسند عمر (رض)) طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ لوگ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہو، اگر ہم یہود پر وہ نازل ہوتی تو اس دن کو ہم عید کا دن بنا لیتے۔
حضرت عمر (رض) نے اس آیت کے بارے میں استفسار فرمایا تو یہودی نے کہا :
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم و نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ المائدہ : 3 ۔
آخر آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لیے اسلام کا دین پسند کیا۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں یہ آیت کس دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی اور کس گھڑی نازل ہوئی۔ جمعہ کے دن عرفہ کی شان کو یہ نازل ہوئی تھی۔ (اور یہ ہماری عید ہی کا دن ہے) ۔ (مسند احمد، مسند الحمیدی، عبد بن حمید، بخاری، مسلم ، ترمذی، نسائی، ابن جرر، ابن المنذر، ابن حبان، شعب الایمان للبیہقی)
فائدہ : امام قرطبی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ آیت ہجرت کے دسویں سال جمعہ کے دن عصر کے بعد نازل ہوئی اور اس دن عرفہ کا دن بھی تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حجۃ الوداع تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی عضباء نامی اونٹنی پر عرفات کے میدان میں لوگوں کو حجۃ الوداع کا خطبہ دے رہے تھے، اسی حال میں یہ آیت نازل ہوئی اور اس وحی کی وجہ سے اونٹنی پر اس قدر بوجھ پڑا قریب تھا کہ (اس کی پسلیاں) ٹوٹ جاتی حتی کہ اونٹنی بیٹھ گئی (تفسیر القرطبی 61/6، ذیل آیت 93 المائدہ۔