4382- عن علي قال: "افترقت بنو إسرائيل بعد موسى على إحدى وسبعين فرقة كلها في النار إلا فرقة، وافترقت النصارى بعد عيسى عليه السلام على اثنتين وسبعين فرقة كلها في النار إلا فرقة، فأما اليهود فإن الله يقول: {وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ} وأما النصارى فإن الله تعالى يقول: {مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ} فهذه التي تنجو وأما نحن فيقول الله تعالى: {وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ} فهذه التي تنجو من هذه الأمة. "ابن أبي حاتم وأبو الشيخ"
4382: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد اکہتر 71 فرقوں میں بٹ گئے جن میں ایک کے سوا سب جہنم میں داخل ہوئے۔ نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد 72 فرقوں میں بٹ گئے۔ جن میں ایک کے سوا سب جہنم میں گئے۔ یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق و بہ یعدلون۔ الاعراف : 159 ۔
اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
اور اللہ پاک نے نصاری کے بارے میں فرمایا :
منہم امۃ مقتصدۃ۔ المائدۃ : 66 ۔
اور ان (نصاری بنی اسرائیل) میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔
ان دونوں امتوں کے یہ مذکورہ لوگ نجات پانے والے ہیں۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اور ہمارے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا :
وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق و بہ یدعلون۔ الاعراف : 181 ۔
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
فرمایا : اس امت کے یہ لوگ نجات یافتہ ہیں۔ ابن ابی حاتم، ابو الشیخ۔