4401- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم، حين بعثه ببراءة قال: يا رسول الله إني لست باللسن ولا بالخطيب، قال: ما بد لي أن أذهب بها أنا أو تذهب بها أنت، قال: فإن كان ولا بد فسأذهب أنا، قال: "انطلق فإن الله يثبت لسانك، ويهدي قلبك، ثم وضع يده على فيه، وقال إنطلق وإقرأها على الناس، وقال: إن الناس سيتقاضون إليك، فاذا أتاك الخصمان فلا تقضين لواحد حتى تسمع كلام الآخر، فإنه أجدر أن تعلم لمن الحق". "عم وابن جرير".
4401: ۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سورة برأت دے کر مکہ بھیجنا چاہا تو انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نہ تو صاف زبان کا مالک ہوں اور نہ ہی خطیب ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یا تو میں خود جاؤں، یا پھر تم میرا پیغام لے کر جاو۔ حضرت علی رضی الللہ عنہ نے عرض کیا : اگر معاملہ ایسا ہے تو پھر میں ضرور ایسا جاؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میرا پیغآم لے کر جاؤ اللہ تمہاری زبان کو مضبوط کرے گا۔ اور تمہارے دل کو ہدایت سے لبریز کرے گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کے منہ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا : جاؤ اور وہ خط پڑھ کر سناؤ۔ نیز فرمایا : عنقریب لوگ تمہارے پاس اپنے فیصلے اور مقدمے لے لے کر حاضر ہوا کریں گے۔ پس جب کبھی دو فریق تمہارے پاس کوئی فیصلہ لے کر آئیں کبھی ایک کے حق میں فیصلہ نہ کردینا جب تک دوسرے کی اچھی طرح نہ سن لو۔ اس سے تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اصل صاحب حق کون ہے ؟ مسند احمد، ابن جریر۔