44079- قولوا خيرا، قولوا: سبحان الله وبحمده، فبالواحدة عشرة، وبالعشرة مائة، وبالمائة ألف، ومن زاد زاده الله، ومن استغفر غفر الله له، ومن حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله في ملكه، ومن أعان على خصومة من غير علم كان في سخط الله حتى ينزع، ومن بهت مؤمنا أو مؤمنة حبسه الله في ردغة الخبال حتى يأتي بالمخرج مما قال، ومن مات وعليه دين أخذ من حسناته، ليس ثم دينار ولا درهم، حافظوا على ركعتي فإن فيهما رغب الدهر. "الخطيب - عن ابن عمر".
44079 (ہمیشہ) بھلی بات کہو اور سبحان اللہ وبحمدہ کہو چنانچہ ایک بار کہنے سے دس نیکیاں ملیت ہیں، دس بار کہنے سے سو نیکیاں ملتی ہیں، سو بار کہنے سے ہزار نیکیاں ملتی ہیں اور جو اس سے زیادہ مرتبہ کہے گا اللہ تعالیٰ اسے زیادہ نیکیاں عطا فرمائے گا۔ جو شخص استغفار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔ جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے آڑے آگئی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں مخالفت کی، جس نے بغیر علم کے کسی جھگڑے کی مدد کی وہ اللہ تعالیٰ کے غصے کا مستحق ہوگیا حتیٰ کہ وہ اس سے الگ ہوجائے۔ جس نے کسی مومن مرد یا مومن عورت پر بہتان باندھا اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی کیچڑ میں قید کریں گے یہاں تک وہ کہی ہوئی بات سے نکل نہ جائے۔ جو شخص مقروض حالت میں مرا اس سے اس کی نیکیاں چھین لی جائیں گی وہاں دینار و درہم نہیں ہوں گے، (صبح کی) دو رکعتوں کی پابندی کرو چونکہ ان میں عمر بھر کی رغبتیں موجود ہیں۔ رواہ الخطیب عن ابن عمر