44078- إن نبي الله نوحا لما حضرته الوفاة قال لابنه: يا بني! إني موصيك فقاصر على الوصية، آمرك باثنتين وأنهاك عن اثنتين: آمرك بلا إله إلا الله، فلو أن السماوات السبع والأرضين السبع وضعن في كفة ولا إله إلا الله في كفة لرجحت بهن، ولو أن السماوات السبع والأرضين السبع كانت حلقة مبهمة قصمهن لا إله إلا الله، وأوصيك بسبحان الله وبحمده، فإنها صلاة الخلق وبها يرزق الخلق؛ وأنهاك عن الكفر والكبر، قيل: يا رسول الله! ما الكبر؟ أهو أن يكون للرجل حلة يلبسها، وفرس جميل يعجبه جماله؟ قال: لا، الكبر أن تسفه الحق وتغمص الناس. "حم، طب، ك - عن ابن عمر".
44078 حضرت نوح (علیہ السلام) نے بوقت وفات اپنے بیٹے سے فرمایا : اے بیٹے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اور میری وصیت پر ڈٹ جاؤ، میں تمہیں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے منع کرتا ہوں، میں تمہیں لا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین (ترازو کے) ایک پلڑے میں رکھ دے جائیں اور دوسرے پلڑے میں یہ کلمہ رکھ دیا جائے تو کلمے والا پلڑا جھک جائے گا۔ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک حلقے کی مانند ہوجائیں یہ کلمہ انھیں اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے میں تمہیں سبحان اللہ وبحمدہ کی وصیت کرتا ہوں چونکہ یہ کلمات مخلوق کی نماز ہے اور انھیں کے ذریعے مخلوق کو رزق عطا کیا جاتا ہے میں تمہیں کفر اور تکبر سے منع کرتا ہوں، عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! تکبر کیا ہے چنانچہ کسی آدمی کے پاس جوڑا ہو جسے وہ پہنتا ہو اور خوبصورت گھوڑا ہو جس پر وہ سواری کرتا ہو کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے ؟ فرمایا نہیں، بلکہ تکبر یہ ہے کہ تم حق سے روگردانی کرجاؤ اور لوگوں کو کمتر سمجھتے لگو۔ رواہ احمد بن حنبل والطبرانی والحاکم عن ابن عمرو