44266- عن حذيفة بن اليمان قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي قبض فيه، فرأيته يتساند إلى علي فأردت أن أنحيه وأجلس مكانه، فقلت: يا أبا الحسن! ما أراك إلا تعبت في ليلتك هذه، فلو تنحيت فأعنتك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعه فهو أحق بمكانه منك؛ ادن مني يا حذيفة! من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله دخل الجنة، يا حذيفة! من أطعم مسكينا لله دخل الجنة، قلت: يا رسول الله! أكتم أم أتحدث به؟ قال: بل تحدث به. "كر".
44266 حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا آپ مرض وفات میں تھے۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت علی (رض) کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دیکھا میں نے چاہا کہ حضرت علی کو ہٹا کر ان کی جگہ میں بیٹھ جاؤں میں نے کہا اے ابوالحسن ! میں آپ کو اس جگہ رات سے ٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں اگر آپ یہاں سے ہٹ جائیں اور میں آپ کی مدد کروں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑو وہ تمہاری بنسبت اپنی جگہ کے زیادہ حقدار ہے اے حذیفہ میرے قریب ہوجاؤ ! جس شخص نے گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اے حذیفہ ! جس شخص نے کسی مسکین کو اللہ کے لیے کھانا کھلایا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے عرض کیا رسول اللہ ! یہ بشارت میں چھپا لوں یا اسے بیان کروں ؟ ارشاد فرمایا : بلکہ اسے بیان کرو۔ رواہ ابن عساکر