hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4476

.

كنز العمال

4476
Kanz al-Ummal
4476- عن أبي بن كعب لما كان يوم أحد أصيب من الأنصار أربعة وستون رجلا، ومن المهاجرين ستة، منهم حمزة فمثلوا بهم، فقالت الأنصار: لئن أصبنا منهم يوما مثل هذا لنربين عليهم فلما كان يوم فتح مكة أنزل الله: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ} فقال رجل لا قريش بعد اليوم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "نصبر ولا نعاقب كفوا عن القوم إلا أربعة". "ت حسن غريب
4476: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ احد کے دن مسلمین انصار کے چونسٹھ 64 اور مسلمین مہاجرین کے چھ اشخاص شہید ہوئے۔ انہی چھ میں سے حضرت حمزہ (رض) (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا) بھی تھے۔ جن کا حلیہ مشرکین نے انتہائی بیدردی سے بگاڑ دیا تھا۔ انصار کہنے لگے : اگر کبھی اور کوئی دن جنگ کا ملا تو ہم سود کے ساتھ ان کو جواب دیں گے۔ چنانچہ فتح مکہ میں مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی (اور تمام کفار و مشرکین مسلمانوں کے زیر دست ہوگئے) تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا :
و ان عاقبتم فعاقبو بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین۔ النحل : 136 ۔
اور اگر تم ان کو تکلیف دینا چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو پہنچی ہے اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔
اسی بدلے کے غم میں ایک شخص نے فتح مکہ کے موقع پر کہا : آج کے بعد قریش کا نام و نشانہ رہے گا۔ لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ آیت کی تعمیل میں ارشاد فرمایا :
ہم صبر کریں گے اور سزا نہیں دیں گے لہٰذا تم چار اشخاص کے سوا کسی کو بھی تکلیف پہنچانے سے گریز کرو۔ (ترمذی، حسن غریب، حدیث ابی (رض) زیادات عبداللہ بن احمد بن حنبل، نسائی، ابن المنزر، ابن ابی حاتم، ابن خزیمہ، فی الفوائد ابن حبان، الکبیر اللطبرانی ، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم ، الدلائل للبیہقی۔
فائدہ : ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ مردوں اور چار عورتوں کے سوا قتل عام سے روک دیا تھا۔ مردوں میں عکرمہ بن ابی جہل، جو بعد میں مسلمان ہو کر عظیم کارنامے انجام دینے والے بنے۔ ہبار بن الاسود، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، مقیس بن صبابہ اللیثی، حویرث بن نقیذ، عبداللہ بن ہلال خطل ادرمی، عورتوں میں ہند بنت عتبہ (جس نے حضرت حمزہ (رض) کا کلیجہ چبایا تھا اور یہ بعد میں مسلمان ہوگئیں) عمرو بن ہاشم کی باندی سارہ، فرتنا اور قریبہ۔
ان دس افراد میں سے عبداللہ بن ہلال بن خطل، خوریث بن نقیذ اور مقیس بن صبابہ کو قتل کردیا تھا۔ دیکھئے الطبقات لابن سعد الجز الثانی ص 317 المطبوعہ مدار احیاء التراک۔