4489- عن علي في قوله تعالى: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} "كان لوح من ذهب مكتوب فيه: لا إله إلا الله محمد رسول الله، عجبا لمن يذكر أن الموت حق كيف يفرح؟ وعجبا لمن يذكر أن النار حق، كيف يضحك؟ وعجبا لمن يذكر أن القدر حق كيف يحزن؟ وعجبا لمن يرى الدنيا وتصرفها بأهلها، كيف يطمئن إليها؟ " "هب".
4489: ۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے :
وکان تحتہ کنز لھما۔ الکہف : 82
اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا۔
کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں وہ خزانہ سونے کی ایک تختی تھی جس میں لکھا ہوا تھا :
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔
تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو موت کو حق سمجھتا ہے اور پھر بھی خوش ہوتا ہے تعجب ہے مجھے ایسے شخص پر جو دوزخ کو حق سمجھتا ہے اور پھر ہنستا ہے، مجھے تعجب ہے ایسے شخص پر جو تقدیر کو حق سمجھتا ہے اور پھر بھی رنج و غم میں مبتلا ہوتا ہے اور تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو دیکھتا ہے اور اسی کی اپنے اہل کے ساتھ حشر آرائیاں دیکھتا ہے پھر بھی اس پر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی۔