hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4542

.

كنز العمال

4542
Kanz al-Ummal
4542- عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر أرأيت لو أنك وجدت رجلا مع أم رومان كيف كنت صانعا؟ قال: كنت والله فاعلا شرا، قال فأنت يا عمر؟ قال: والله كنت قاتله، قال فأنت يا سهل؟ قال كنت أقول لعن الله إلا بعد، هو خبيث، ولعن الله البعدى فهي خبيثة، ولعن الله أول الثلاثة إخبر بهذا، قال: تأولت القرآن يا ابن البيضاء {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} ". "الديلمي".
4542: ۔۔ حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (حضرت ابوبکر (رض) کو مخاطب کرکے) ارشاد فرمایا :
اے ابوبکر ! کیا خیال ہے اگر تم (اپنی بیوی) ام رومان کے ساتھ کسی اجنبی شخص کو پاؤ تو کیا کروگے ؟
حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : واللہ ! اس کا بڑا برا حشر کروں گا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا : اور تم اے عمر ! حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : اللہ کی قسم میں اس کو قتل کر ڈالوں گا۔ پھر حضرت سہل (رض) سے مخاطب ہو کر پوچھا اور تم اے سہیل ؟ انھوں نے عرض کیا : میں کہوں گا : اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو اور اللہ کی لعنت ہو پھٹکار پڑی خبیثہ ہے۔ اور ان میں سب سے پہلے اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے یہ خبر دی۔ چنانچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا۔
اے ابن البیضاء ! تم نے تو قرآن کی تفسیر کردی :
والذین یرمون ازواجہم۔ النور : 6
اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں۔
فائدہ : ۔۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سہل کے قول کو لعان کے قریب قرار دیا۔ جس کا قرآن میں حکم آیا ہے یعنی مرد اگر اپنی عورت پر تہمت لگائے تو وہ قاضی کے روبرو چار بار قسم کھا کر اس پر بدکاری کا الزام عائد کرے اور عورت بھی چار مرتبہ اپنی پاکی قسم اٹھائے پھر قاضی دونوں کے درمیان جدائی کردے۔